13 مارچ 2013 - 20:30

يورپي يونين نے ايران کے خلاف پابنديوں ميں توسيع کرتے ہوئے مزيد نو ايراني شخصيات کے نام پابنديوں کي فہرست ميں شام کرديئے ہیں۔

ابنا: يورپي يونين کے وزرائے خارجہ نے اپنے حاليہ اجلاس ميں ايران کے خلاف پابنديوں کي فہرست ميں مزيد نو شخصيات کے ناموں کا اضافہ کرديا ہے ۔اس رپورٹ کے مطابق پابنديوں کي فہرست ميں جن شخصيات کا اضافہ کيا گيا ہے ان ميں آئي آر آئي بي کي عالمي سروس کے سربراہ اور پريس ٹي وي کے ڈائريکٹر،  ڈاکٹر محمد سرافراز کا نام بھي شامل ہے۔
يورپي يونين نے يہ اقدام ايسي حالت ميں کيا ہے کہ وہ آزادي بيان، ڈيموکريسي اور انساني حقوق کے دفاع کي دعويدار ہے۔يورپ اس سے پہلے  آزادي بيان کے دعووں کے برخلاف پريس ٹي وي اور العالم سميت ايران کي مختلف سيٹ لائٹ ٹي وي نشريات پر پابندي لگاچکا ہے۔
ايک ہسپانوي کمپني ہسپا سيٹ نے بھي اکيس دسمبر دو ہزار بارہ سے  اسلامي جمہوريہ ايران  کے خلاف پابنديوں کے بہانے ، ايران کي انگريزي نشريات کے چينل پريس ٹي وي اور ہسپانوي زبان کے ٹي وي چينل،  ہسپان ٹي وي کي نشريات بند کردي ہيں۔
آئي آر آئي بي کي بين الاقوامي نشريات کے سربراہ ڈاکٹر محمد سرافراز نے ايراني ميڈيا کے خلاف يورپ کے ان دشمنانہ اقدامات کے بارے ميں کہا ہے کہ مغرب در اصل ميڈيا کي آزادي کا مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربي حکومتوں نے ايراني ميڈيا کے خلاف جو روش اختيار کي ہے اس سے آزادي بيان کے بارے ميں جنگل کے قانون اور قرون وسطي کي ياد تازہ ہوجاتي ہے جب جاننا جرم سمجھا جاتا تھا۔

.....

/169